صحیح بخاری حدیث ۳۵۵۶ - توبہ کی خوشی اور چہرہ مبارک
توبہ قبول ہونے پر نبی صلى الله عليه وسلم کے چہرے کی خوشی
صحیح بخاری : ۳۵۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۵۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، قَالَ :سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ ، قَالَ : " فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ " .
کعب بن مالک روایت:
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا،` آپ غزوہ تبوک میں اپنے پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے (توبہ قبول ہونے کے بعد) حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو چہرہ مبارک مسرت و خوشی سے چمک رہا تھا۔ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات پر مسرور ہوتے تو چہرہ مبارک چمک اٹھتا، ایسا معلوم ہوتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کو ہم اسی سے پہچان جاتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے کے واقعے کے بعد اپنی توبہ قبول ہونے کا لمحہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو سلام کیا تو آپ صلى الله عليه وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ جب بھی نبی صلى الله عليه وسلم کسی بات پر خوش ہوتے تو آپ صلى الله عليه وسلم کا چہرہ روشن ہو جاتا، جیسے چاند کا ٹکڑا ہو، اور صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلى الله عليه وسلم کی خوشی کو اسی سے پہچان لیتے تھے۔ اس حدیث میں اصل بات توبہ قبول ہونے کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم کی مسرت اور چہرہ مبارک کی چمک ہے۔ یہ روایت خوشی نبوی، چہرہ مبارک، اور توبہ کے واقعے کے حوالے سے خاص طور پر اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کی خوشی چہرہ مبارک سے پہچانی جاتی تھی۔
- کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول ہونے پر آپ صلى الله عليه وسلم خوش ہوئے۔
- حدیث میں چہرہ مبارک کو چاند کے ٹکڑے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کے انداز کو محبت سے پہچانتے تھے۔
