صحیح بخاری حدیث ۳۵۵۵ - نبی صلى الله عليه وسلم کی خوشی اور نسب کی پہچان
زید و اسامہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی خوشی
صحیح بخاری : ۳۵۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۵۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَلَيْهَا مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي مَا ، قَالَ : الْمُدْلِجِيُّ لِزَيْدٍ وَأُسَامَةَ وَرَأَى أَقْدَامَهُمَا إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ مِنْ بَعْضٍ " .
عائشہ روایت:
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں بہت ہی خوش خوش داخل ہوئے، خوشی اور مسرت سے پیشانی کی لکیریں چمک رہی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عائشہ! تم نے سنا نہیں مجزز مدلجی نے زید و اسامہ کے صرف قدم دیکھ کر کیا بات کہی؟ اس نے کہا کہ ایک کے پاؤں دوسرے کے پاؤں سے ملتے ہوئے نظر آتے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ان کے پاس بہت خوشی کے عالم میں داخل ہوئے۔ خوشی کی وجہ سے آپ صلى الله عليه وسلم کی پیشانی کی لکیریں چمک رہی تھیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں سنا کہ مجزز مدلجی نے زید اور اسامہ کے قدم دیکھ کر کیا کہا؟ اس نے کہا کہ ایک کے پاؤں دوسرے کے پاؤں سے ملتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کی خوشی اور زید و اسامہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں ایک مشاہدہ ہے۔ متن میں صرف قدم دیکھ کر مشابہت کی بات آئی ہے، اس لیے اس سے آگے نسب یا قیافہ شناسی کے تفصیلی مسائل بیان کرنا اس روایت کا مقصد نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کی خوشی چہرہ مبارک پر ظاہر ہوتی تھی۔
- روایت میں زید اور اسامہ رضی اللہ عنہما کے قدموں کی مشابہت کا ذکر ہے۔
- حدیث کو سمجھتے وقت اسی واقعے تک بات محدود رکھنی چاہیے۔
