صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۱ - زید اور اسامہ رضی اللہ عنہما کے نسب پر خوشی
زید اور اسامہ رضی اللہ عنہما کے نسب والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۷۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۳۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيَّ قَائِفٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ " ، فَقَالَ : إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ، قَالَ : فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ فَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ " .
عائشہ روایت:
ایک قیافہ شناس میرے یہاں آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وہیں تشریف رکھتے تھے اور اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ (ایک چادر میں) لیٹے ہوئے تھے۔ (منہ اور جسم کا سارا حصہ قدموں کے سوا چھپا ہوا تھا) اس قیافہ شناس نے کہا کہ یہ پاؤں بعض، بعض سے نکلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ (یعنی باپ بیٹے کے ہیں) قیافہ شناس نے پھر بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اس اندازہ پر بہت خوش ہوئے اور پھر آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہ واقعہ بیان فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے بارے میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک قیافہ شناس ان کے ہاں آیا، جبکہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم موجود تھے۔ اسامہ اور زید رضی اللہ عنہما لیٹے ہوئے تھے اور ان کے پاؤں ظاہر تھے۔ قیافہ شناس نے کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی باپ بیٹے کے ہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم اس بات سے خوش ہوئے اور یہ واقعہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی بتایا۔ اسامہ بن زید کی حدیث اور زید بن حارثہ کی فضیلت کے حوالے سے یہ روایت بتاتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کو اس بات سے خوشی ہوئی کہ ان کے باہمی تعلق کو پہچانا گیا۔ متن میں اسی واقعے تک بات محدود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو زید اور اسامہ رضی اللہ عنہما کے تعلق کی تصدیق پر خوشی ہوئی۔
- روایت میں باپ بیٹے کے ظاہری مشابہت کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔
- اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کے محبوب لوگوں میں تھے۔
- کسی واقعے کو سمجھتے ہوئے متن کی حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
