صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۲ - مخزومیہ عورت کے معاملے میں اسامہ رضی اللہ عنہ
مخزومیہ عورت کی حدیث: اسامہ رضی اللہ عنہ کی قربت
صحیح بخاری : ۳۷۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۳۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ ، فَقَالُوا : مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عائشہ روایت:
قریش مخزومیہ عورت کے معاملے کی وجہ سے بہت رنجیدہ تھے۔ انہوں نے یہ فیصلہ آپس میں کیا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی عزیز ہیں (اس عورت کی سفارش کے لیے) اور کون جرات کر سکتا ہے!
صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں مخزومیہ عورت کے معاملے پر قریش کی پریشانی اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی نبی صلى الله عليه وسلم کے ہاں قربت کا ذکر ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش اس عورت کے معاملے کی وجہ سے فکر مند تھے۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اس بارے میں بات کرنے کی جرات کون کرے گا؟ پھر انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا نام لیا، کیونکہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو بہت عزیز تھے۔ اس روایت میں اصل بات سفارش کے نتیجے کی نہیں، بلکہ قریش کا اسامہ رضی اللہ عنہ کے مقام کو جاننا ہے۔ اسامہ بن زید کی فضیلت، نبی صلى الله عليه وسلم کے محبوب صحابی، اور مخزومیہ عورت کی حدیث جیسے سرچ الفاظ اسی موضوع سے جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قریش جانتے تھے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کو بہت عزیز ہیں۔
- لوگ کبھی مشکل معاملے میں قریبی شخص کے ذریعے بات کرنا چاہتے ہیں۔
- یہ روایت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی خاص قربت کو ظاہر کرتی ہے۔
- متن میں صرف معاملے کی ابتدا بیان ہوئی ہے، مکمل فیصلہ اگلی روایت میں آتا ہے۔
