صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۰ - اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی امارت
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی امارت اور نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت
صحیح بخاری : ۳۷۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۳۰
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ تَطْعُنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعُنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا۔ ان کے امیر بنائے جانے پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر آج تم اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کر رہے ہو تو اس سے پہلے اس کے باپ کے امیر بنائے جانے پر بھی تم نے اعتراض کیا تھا اور اللہ کی قسم! وہ (زید رضی اللہ عنہ) امارت کے مستحق تھے اور مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے۔ اور یہ (اسامہ رضی اللہ عنہ) اب ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۰ کا خلاصہ
یہ حدیث اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی امارت اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی ان سے محبت کے بارے میں ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔ بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم اس سے پہلے ان کے والد زید رضی اللہ عنہ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ زید رضی اللہ عنہ امارت کے لائق تھے اور آپ صلى الله عليه وسلم کو بہت عزیز تھے، اور اسامہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم کو بہت عزیز ہیں۔ اس حدیث میں اسامہ بن زید کی فضیلت، قیادت کی اہلیت، اور بے جا اعتراض سے بچنے کا صاف سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیادت کا معیار اہلیت ہے، صرف لوگوں کی رائے نہیں۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے زید رضی اللہ عنہ اور اسامہ رضی اللہ عنہ کی محبت بیان فرمائی۔
- کسی امیر پر اعتراض کرنے سے پہلے انصاف کے ساتھ سوچنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے فیصلے کی وجہ واضح کر کے لوگوں کی اصلاح فرمائی۔
