صحیح بخاری حدیث ۳۷۲۹ - فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تکلیف اور نبی صلى الله عليه وسلم کا بیان
فاطمہ رضی اللہ عنہا میرا ٹکڑا ہیں: خاندانی حق کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۷۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۲۹
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : إِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَسَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ , وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ، يَقُولُ : " أَمَّا بَعْدُ أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي وَصَدَقَنِي ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسُوءَهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ " , فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ , وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ مِسْوَرٍ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ ، قَالَ : " حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي " .
مسور بن مخرمہ روایت:
علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کو (جو مسلمان تھیں) پیغام نکاح دیا، اس کی اطلاع جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کی خاطر (جب انہیں کوئی تکلیف دے) کسی پر غصہ نہیں آتا۔ اب دیکھئیے یہ علی ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ پڑھتے سنا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امابعد: میں نے ابوالعاص بن ربیع سے (زینب رضی اللہ عنہا کی، آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی) شادی کرائی تو انہوں نے جو بات بھی کہی اس میں وہ سچے اترے اور بلاشبہ فاطمہ بھی میرے (جسم کا) ایک ٹکڑا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی بھی اسے تکلیف دے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ تعالیٰ کے ایک دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس جمع نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے اس شادی کا ارادہ ترک کر دیا۔محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ابن شہاب سے یہ اضافہ کیا ہے، انہوں نے علی بن حسین سے اور انہوں نے مسور رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے بنی عبدشمس کے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا اور حقوق دامادی کی ادائیگی کی تعریف فرمائی۔ پھر فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جو بات بھی کہی سچی کہی اور جو وعدہ بھی کیا پورا کر دکھایا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مقام، خاندانی حق اور وعدہ نبھانے کی اہمیت ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ کیا۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس کی خبر ہوئی تو وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے اور مجھے پسند نہیں کہ کوئی اسے تکلیف دے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ابوالعاص بن ربیع کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے بات کی تو سچ کہا اور وعدہ کیا تو پورا کیا۔ اس حدیث میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت، بیٹی کی تکلیف کا خیال، اور رشتوں میں سچائی و وعدہ پورا کرنے کا سبق ملتا ہے۔ متن کے مطابق علی رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ چھوڑ دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تکلیف پسند نہ تھی۔
- رشتوں میں سچ بولنا اور وعدہ پورا کرنا قابل تعریف عمل ہے۔
- خاندان کے معاملے میں تکلیف اور دل آزاری کا خیال رکھنا چاہیے۔
- علی رضی اللہ عنہ نے بات واضح ہونے پر اپنا ارادہ چھوڑ دیا۔
