صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۳ - مخزومیہ عورت اور عدل کی حدیث
عدل کی حدیث: مخزومیہ عورت اور سفارش کا واقعہ
صحیح بخاری : ۳۷۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۳۳
ح وحَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : ذَهَبْتُ أَسْأَلُ الزُّهْرِيَّ عَنْ حَدِيثِ الْمَخْزُومِيَّةِ فَصَاحَ بِي ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ : " فَلَمْ تَحْتَمِلْهُ عَنْ أَحَدٍ " ، قَالَ : وَجَدْتُهُ فِي كِتَابٍ كَانَ كَتَبَهُ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ ، فَقَالُوا : مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجْتَرِئْ أَحَدٌ أَنْ يُكَلِّمَهُ , فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ , لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " .
سفیان روایت:
میں نے زہری سے مخزومیہ کی حدیث پوچھی تو وہ مجھ پر بہت غصہ ہو گئے۔ میں نے اس پر سفیان سے پوچھا کہ پھر آپ نے کسی اور ذریعہ سے اس حدیث کی روایت نہیں کی؟ انہوں نے بیان کیا کہ ایوب بن موسیٰ کی لکھی ہوئی ایک کتاب میں، میں نے یہ حدیث دیکھی۔ وہ زہری سے روایت کرتے تھے، وہ عروہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی تھی۔قریش نے (اپنی مجلس میں) سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس عورت کی سفارش کے لیے کون جا سکتا ہے؟ کوئی اس کی جرات نہیں کر سکا، آخر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں یہ دستور ہو گیا تھا کہ جب کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹتے۔ اگر آج فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۳ کا خلاصہ
یہ حدیث عدل، قانون کی برابری اور سفارش کی حد کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، تو قریش نے سوچا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے اس کے بارے میں کون بات کرے۔ کوئی جرات نہ کر سکا، پھر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بات کی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں جب کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹتے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتیں تو میں ان کا بھی ہاتھ کاٹتا۔ اس حدیث میں عدل کی حدیث، قانون کی برابری، اور سفارش سے بچنے کا مضبوط سبق ہے۔ بات اسی متن تک محدود ہے، اس سے زائد تفصیل یہاں بیان نہیں کی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قانون کے معاملے میں طاقتور اور کمزور میں فرق نہیں ہونا چاہیے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سفارش کے غلط استعمال کو پسند نہیں فرمایا۔
- پچھلی قوموں کی خرابی میں ناانصافی کا عمل شامل تھا۔
- عدل کا تقاضا ہے کہ قریبی یا معزز شخص کے لیے اصول نہ بدلا جائے۔
