صحیح بخاری حدیث ۳۵۵۷ - نبی صلى الله عليه وسلم کا بہترین قرن

نبی صلى الله عليه وسلم بہترین نسلوں میں مبعوث ہوئے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۵۷

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتَّى كُنْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں (آدم علیہ السلام سے لے کر) برابر آدمیوں کے بہتر قرنوں میں ہوتا آیا ہوں (یعنی شریف اور پاکیزہ نسلوں میں) یہاں تک کہ وہ قرن آیا جس میں میں پیدا ہوا۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۵۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا پاکیزہ اور بہتر قرنوں میں مبعوث ہونا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں بنی آدم کے بہتر قرنوں میں قرن در قرن آتا رہا، یہاں تک کہ وہ قرن آیا جس میں میں پیدا ہوا۔ اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کے نسب اور زمانے کی فضیلت کا مختصر بیان ہے۔ یہاں ہمیں اس بات پر رکنا چاہیے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے آنے کو بنی آدم کے بہترین قرنوں کے سلسلے سے جوڑا۔ اس میں تفصیلی نسب نامہ بیان نہیں کیا گیا، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلى الله عليه وسلم کو ایسے زمانے اور سلسلے میں ظاہر فرمایا جسے حدیث میں خیر قرون کہا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے مبعوث ہونے کو بہترین قرنوں سے جوڑا۔
  • حدیث میں پاکیزہ سلسلے اور بہتر زمانے کا ذکر ہے۔
  • اس روایت میں نسب کی تفصیل نہیں، صرف عمومی فضیلت بیان ہوئی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں