صحیح بخاری حدیث ۳۵۵۸ - نبی صلى الله عليه وسلم کے بالوں کا انداز
نبی صلى الله عليه وسلم کے بالوں کا انداز اور مانگ نکالنا
صحیح بخاری : ۳۵۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۵۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَسْدِلُ شَعَرَهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ ، فَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ رُءُوسَهُمْ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ ، ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سر کے آگے کے بالوں کو پیشانی پر) پڑا رہنے دیتے تھے اور مشرکین کی یہ عادت تھی کہ وہ آگے کے سر کے بال دو حصوں میں تقسیم کر لیتے تھے (پیشانی پر پڑا نہیں رہنے دیتے تھے) اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) سر کے آگے کے بال پیشانی پر پڑا رہنے دیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات میں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم آپ کو نہ ملا ہوتا۔ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے (اور حکم نازل ہونے کے بعد وحی پر عمل کرتے تھے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سر میں مانگ نکالنے لگے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم شروع میں سر کے آگے کے بال پیشانی پر پڑا رہنے دیتے تھے۔ مشرکین بالوں کو دو حصوں میں بانٹتے تھے، جبکہ اہل کتاب بالوں کو پیشانی پر رہنے دیتے تھے۔ نبی صلى الله عليه وسلم ان باتوں میں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم نازل نہ ہوا ہوتا، اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے۔ پھر بعد میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سر میں مانگ نکالنی شروع کی۔ اس حدیث کا اصل موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کے بالوں کا انداز ہے۔ اس میں حکم کے نزول سے پہلے کے طرز عمل اور بعد میں مانگ نکالنے کا ذکر ہے۔ اسے نبی صلى الله عليه وسلم کے بال، مانگ نکالنا، اور شمائل نبوی کے عنوان سے تلاش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم شروع میں بال پیشانی پر چھوڑتے تھے۔
- بعد میں آپ صلى الله عليه وسلم نے سر میں مانگ نکالنی شروع کی۔
- روایت میں اہل کتاب اور مشرکین کے بالوں کے انداز کا فرق بیان ہے۔
- جن باتوں میں حکم نہ ہوتا، ان میں آپ صلى الله عليه وسلم اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے۔
