صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۱ - دست مبارک کی نرمی اور خوشبو

نبی صلى الله عليه وسلم کے دست مبارک کی نرمی اور خوشبو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۶۱

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا مَسِسْتُ حَرِيرًا وَلَا دِيبَاجًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا شَمِمْتُ رِيحًا قَطُّ ، أَوْ عَرْفًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ أَوْ عَرْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

انس بن مالک روایت:

نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم و نازک کوئی حریر و دیباج میرے ہاتھوں نے کبھی چھوا اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ بہتر اور پاکیزہ کوئی خوشبو یا عطر سونگھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۵۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے دست مبارک اور خوشبو کا اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کوئی حریر یا دیباج ایسا نہیں چھوا جو نبی صلى الله عليه وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو۔ پھر وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی خوشبو سے بہتر اور پاکیزہ کوئی خوشبو یا عطر نہیں سونگھا۔ یہ حدیث شمائل نبوی میں بہت محبت بھرا بیان رکھتی ہے۔ اس میں نبی صلى الله عليه وسلم کی ہتھیلی کی نرمی اور جسم مبارک کی پاکیزہ خوشبو کا ذکر ہے۔ بات صرف راوی کے تجربے پر ہے، اس لیے اس سے آگے غیر ضروری تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔ یہ روایت دست مبارک، خوشبوئے رسول صلى الله عليه وسلم، اور شمائل نبوی کے لیے اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کی ہتھیلی کی نرمی اپنے مشاہدے سے بیان کی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کی خوشبو کو راوی نے سب خوشبوؤں سے بہتر بتایا۔
  • شمائل نبوی میں صحابہ کے براہ راست تجربات بہت اہم ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں