صحیح بخاری حدیث ۶۰۳۱ - گالی اور لعنت سے پاک زبان
گالی نہ دینے کی حدیث: زبان کا پاکیزہ استعمال
صحیح بخاری : ۶۰۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۳۱
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَحْيَى هُوَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبابا وَلَا فَحَّاشًا وَلَا لَعَّانًا ، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمَعْتِبَةِ : مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ گالی دیتے تھے نہ بدگو تھے نہ بدخو تھے اور نہ لعنت ملامت کرتے تھے۔ اگر ہم میں سے کسی پر ناراض ہوتے اتنا فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی میں خاک لگے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع پاکیزہ زبان ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ گالی دیتے تھے، نہ بدگو تھے، نہ بدخو تھے اور نہ لعنت ملامت کرتے تھے۔ اگر کسی پر ناراضی ہوتی تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت گالی نہیں دیتے تھے، بلکہ محدود الفاظ میں بات فرماتے۔ یہ حدیث گالی نہ دینے کی حدیث کے طور پر ہماری روزمرہ زندگی سے بہت قریب ہے۔ گھر، بازار، کام یا دوستوں میں اکثر ناراضی زبان کو خراب کر دیتی ہے۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہے کہ ناراضگی کے وقت بھی الفاظ قابو میں رہیں۔ پاکیزہ زبان، اچھے اخلاق کا واضح حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گالی، بدگوئی اور لعنت ملامت سے بچنا چاہیے۔
- ناراضی میں بھی زبان کو قابو میں رکھنا نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ ہے۔
- اچھے اخلاق کا ایک بڑا حصہ پاکیزہ گفتگو ہے۔
