صحیح بخاری حدیث ۳۵۸ - کیا ہر شخص کے پاس دو کپڑے ہیں؟
ایک کپڑے میں نماز کا سوال اور نبوی جواب
صحیح بخاری : ۳۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَائِلًا سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ " .
ابوہریرہ روایت:
ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کچھ برا نہیں) بھلا کیا تم سب میں ہر شخص کے پاس دو کپڑے ہیں؟
صحیح بخاری حدیث ۳۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ کیا تم سب میں ہر شخص کے پاس دو کپڑے ہیں؟ یہ جواب اس زمانے کی سادگی اور لوگوں کی مالی حالت کو بھی سامنے لاتا ہے۔ حدیث کا اصل موضوع ایک کپڑے میں نماز اور نماز کا لباس ہے۔ یہاں مقصد یہ نہیں کہ لباس کو بے پرواہی سے لیا جائے، بلکہ یہ بتایا گیا کہ اگر آدمی کے پاس ایک ہی کپڑا ہو اور نماز کی ضروری ستر پوشی ہو رہی ہو تو سوال کا جواب آسانی کے ساتھ دیا گیا۔ یہ روایت دین کی سہولت کو بھی دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک کپڑے میں نماز کے بارے میں سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی حالت کو سامنے رکھ کر جواب دیا۔
- حدیث میں سادگی اور آسانی کا پہلو موجود ہے۔
- نماز کے لباس کا مسئلہ ضرورت اور حالت کے ساتھ سمجھا گیا۔
