صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۱ - قالینوں کی خبر اور دنیاوی آسائش
قالینوں کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کی سچی خبر
صحیح بخاری : ۳۶۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۳۱
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكُمْ مِنْ أَنْمَاطٍ ؟ ، قُلْتُ : وَأَنَّى يَكُونُ لَنَا الْأَنْمَاطُ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ لَكُمُ الْأَنْمَاطُ فَأَنَا أَقُولُ لَهَا يَعْنِي امْرَأَتَهُ أَخِّرِي عَنِّي أَنْمَاطَكِ ، فَتَقُولُ : أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمُ الْأَنْمَاطُ فَأَدَعُهَا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
´ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` (ان کی شادی کے موقع پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟ میں نے عرض کیا، ہمارے پاس قالین کہاں؟ (ہم غریب لوگ ہیں) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یاد رکھو ایک وقت آئے گا کہ تمہارے پاس عمدہ عمدہ قالین ہوں گے۔“اب جب میں اس سے (اپنی بیوی سے) کہتا ہوں کہ اپنے قالین ہٹا لے تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے نہیں فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہارے پاس قالین ہوں گے۔ چنانچہ میں انہیں وہیں رہنے دیتا ہوں (اور چپ ہو جاتا ہوں)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۱ کا خلاصہ
یہ حدیث رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ایک خبر کو بیان کرتی ہے جو بعد میں پوری ہوئی۔ جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس قالین کہاں سے ہوں گے، یعنی اس وقت وہ اس طرح کی آسائش نہیں رکھتے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یاد رکھو، ایک وقت آئے گا کہ تمہارے پاس قالین ہوں گے۔ بعد میں جب جابر رضی اللہ عنہ کے گھر میں قالین ہوئے اور وہ اپنی بیوی سے انہیں ہٹانے کو کہتے، تو وہ انہیں نبی صلى الله عليه وسلم کی بات یاد دلاتیں۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ انہیں رہنے دیتے۔ اس حدیث میں دنیاوی آسائش، نبی صلى الله عليه وسلم کی خبر اور گھر کے اندر سادہ گفتگو کا ذکر ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ آسائش خود بری ہے، بلکہ واقعہ صرف ایک آنے والی حالت کی خبر دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کو آئندہ آنے والی آسائش کی خبر دی۔
- غربت کے بعد آسائش آنا ممکن ہے، مگر اسے نبی صلى الله عليه وسلم کی بات کے ساتھ یاد رکھا گیا۔
- گھر کی گفتگو میں بھی حدیث یاد دلائی جا سکتی ہے۔
- حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھ کر غیر ضروری حکم نہیں لگانا چاہیے۔
