صحیح بخاری حدیث ۳۶۴۲ - عروہ رضی اللہ عنہ کی تجارت میں برکت
تجارت میں برکت کی حدیث: عروہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ
صحیح بخاری : ۳۶۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۴۲
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَيَّ يُحَدِّثُونَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي لَهُ بِهِ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ بِهِ شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ وَجَاءَهُ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ وَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ جَاءَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعَهُ شَبِيبٌ مِنْ عُرْوَةَ فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : شَبِيبٌ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَيَّ يُخْبِرُونَهُ عَنْهُ .
شبیب بن غرقدہ روایت:
میں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے سنا تھا، وہ لوگ عروہ سے نقل کرتے تھے (جو ابوالجعد کے بیٹے اور صحابی تھے) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دیا کہ وہ اس کی ایک بکری خرید کر لے آئیں۔ انہوں نے اس دینار سے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچ کر دینار بھی واپس کر دیا۔ اور بکری بھی پیش کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان کی تجارت میں برکت کی دعا فرمائی۔ پھر تو ان کا یہ حال ہوا کہ اگر مٹی بھی خریدتے تو اس میں انہیں نفع ہو جاتا۔سفیان نے کہا کہ حسن بن عمارہ نے ہمیں یہ حدیث پہنچائی تھی شبیب بن غرقدہ سے۔ حسن بن عمارہ نے کہا کہ شبیب نے یہ حدیث خود عروہ رضی اللہ عنہ سے سنی تھی۔ چنانچہ میں شبیب کی خدمت میں گیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے یہ حدیث خود عروہ سے نہیں سنی تھی۔ البتہ میں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو ان کے حوالے سے بیان کرتے سنا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۴۲ کا خلاصہ
یہ حدیث تجارت میں برکت اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی دعا کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے عروہ رضی اللہ عنہ کو ایک دینار دیا تاکہ وہ ایک بکری خرید کر لائیں۔ انہوں نے اس ایک دینار سے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچ دیا، اور نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس ایک دینار بھی لے آئے اور ایک بکری بھی۔ اس پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کی تجارت میں برکت کی دعا فرمائی۔ روایت میں آتا ہے کہ اس کے بعد اگر وہ مٹی بھی خریدتے تو اس میں انہیں نفع ہو جاتا۔ ساتھ ہی سند کے بارے میں سفیان اور شبیب کی گفتگو بھی نقل ہوئی ہے، جس سے روایت بیان کرنے میں احتیاط کا انداز معلوم ہوتا ہے۔ یہ حدیث کاروبار، امانت، سمجھ داری اور نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا کی برکت کے موضوع پر اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عروہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے دیے ہوئے دینار سے امانت داری کے ساتھ معاملہ کیا۔
- خرید و فروخت میں سمجھ داری سے کام لیا جا سکتا ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کی تجارت میں برکت کی دعا فرمائی۔
- حدیث کے آخر میں روایت نقل کرنے کی احتیاط بھی دکھائی دیتی ہے۔
