صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۹ - عبداللہ رضی اللہ عنہ اور تہجد کی ترغیب

تہجد کی حدیث: عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت اچھے آدمی ہیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۳۹

فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ " ، قَالَ سَالِمٌ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا .

‏‏‏‏ حفصہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ کاش! رات میں وہ تہجد کی نماز پڑھا کرتا۔ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ اس کے بعد رات میں بہت کم سویا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۹ کا خلاصہ

یہ حدیث تہجد کی ترغیب اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نرم اصلاح کا بہترین نمونہ ہے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا خواب نبی صلى الله عليه وسلم سے بیان کیا۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بہت اچھا لڑکا ہے، کاش وہ رات میں نماز پڑھا کرتا۔ سالم بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد عبداللہ رضی اللہ عنہ رات میں بہت کم سویا کرتے تھے۔ تہجد کی حدیث، رات کی نماز، اور عبداللہ بن عمر کی فضیلت جیسے موضوعات اس روایت سے جڑے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے پہلے ان کی تعریف فرمائی، پھر ایک اچھی بات کی طرف توجہ دلائی۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ اصلاح کا اچھا انداز دل پر اثر کرتا ہے۔ روایت میں بس رات کی نماز کی ترغیب اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعد کے عمل کا ذکر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کی تعریف کے ساتھ اصلاح فرمائی۔
  • رات کی نماز ایک پسندیدہ نیکی کے طور پر بیان ہوئی۔
  • عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نصیحت سن کر اپنے عمل میں تبدیلی کی۔
  • اچھی بات سمجھانے میں نرم اور مثبت انداز مؤثر ہوتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں