صحیح بخاری حدیث ۳۷۴۰ - عبداللہ رضی اللہ عنہ نیک آدمی ہیں
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نیک آدمی ہیں: فضیلت کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۷۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۴۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ أُخْتِهِ حَفْصَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ " .
حفصہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ عبداللہ نیک آدمی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت بہت مختصر الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ روایت کے مطابق رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ عبداللہ نیک آدمی ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے، مگر اس میں نبی صلى الله عليه وسلم کی طرف سے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے لیے تعریف موجود ہے۔ عبداللہ بن عمر کی فضیلت، نیک آدمی کی حدیث، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسے سرچ الفاظ اسی حدیث سے متعلق ہیں۔ اس روایت میں تہجد کا تفصیلی ذکر نہیں، صرف نیکی کی گواہی کا جملہ ہے، اس لیے تشریح بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کسی کے اچھے وصف کو صاف الفاظ میں بیان فرماتے تھے، اور ایسی تعریف انسان کے مقام کو واضح کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نیک آدمی فرمایا۔
- کسی کے اچھے وصف کو بیان کرنا جائز اور مفید ہو سکتا ہے۔
- مختصر حدیث بھی صحابی کی فضیلت کو ظاہر کر سکتی ہے۔
- نیکی انسان کے تعارف کا بہترین پہلو ہے۔
