صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۸ - ابن عمر رضی اللہ عنہما کا خواب

ابن عمر رضی اللہ عنہما کا خواب اور دوزخ سے پناہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۳۸

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُنْتُ شَابًّا أَعْزَبَ وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَيِ الْبِئْرِ , وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ , أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ ، فَقَالَ لِي : لَنْ تُرَاعَ , فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب موجود تھے تو جب بھی کوئی شخص کوئی خواب دیکھتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کرتا۔ میرے دل میں بھی یہ تمنا پیدا ہو گئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کروں۔ میں ان دنوں کنوارا تھا اور نوعمر بھی تھا۔میں آپ کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا تو میں نے خواب میں دو فرشتوں کو دیکھا کہ مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ وہ بل دار کنویں کی طرح پیچ در پیچ تھی۔ کنویں ہی کی طرح اس کے بھی دو کنارے تھے اور اس کے اندر کچھ ایسے لوگ تھے جنہیں میں پہچانتا تھا۔ میں اسے دیکھتے ہی کہنے لگا دوزخ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، دوزخ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے بعد مجھ سے ایک دوسرے فرشتے کی ملاقات ہوئی، اس نے مجھ سے کہا کہ خوف نہ کھا، میں نے اپنا یہ خواب حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۷۳۸ کا خلاصہ

یہ حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے خواب کے بارے میں ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں لوگ اپنا خواب آپ صلى الله عليه وسلم کو سنایا کرتے تھے۔ ان کے دل میں بھی خواہش ہوئی کہ وہ کوئی خواب دیکھیں اور نبی صلى الله عليه وسلم کو سنائیں۔ وہ اس وقت نوجوان اور غیر شادی شدہ تھے اور مسجد میں سویا کرتے تھے۔ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے انہیں آگ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ آگ کنویں کی طرح پیچ دار تھی اور اس میں کچھ لوگ تھے جنہیں وہ پہچانتے تھے۔ وہ بار بار کہنے لگے: میں اللہ سے دوزخ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر ایک فرشتے نے کہا کہ خوف نہ کرو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ خواب حفصہ رضی اللہ عنہا کو سنایا۔ اس حدیث میں خواب، دوزخ سے پناہ، اور نیک رہنمائی کی خواہش کا بیان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں لوگ اپنے خواب آپ صلى الله عليه وسلم کو سنایا کرتے تھے۔
  • دوزخ کا ذکر سن کر یا دیکھ کر اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
  • ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نیک رہنمائی کی خواہش تھی۔
  • خواب کو مناسب شخص کے ذریعے نبی صلى الله عليه وسلم تک پہنچایا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں