صحیح بخاری حدیث ۳۸۰۱ - انصار میرے جسم و جان

انصار میرے جسم و جان ہیں: محبت اور درگزر کا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۸۰۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عنه , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَالنَّاسُ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ , فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انصار میرے جسم و جان ہیں، ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہو جائیں گے، لیکن انصار کم رہ جائیں گے، اس لیے ان کے نیکو کاروں کی پذیرائی کیا کرنا، اور خطا کاروں سے درگزر کیا کرنا۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۸۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں بہت محبت بھرے الفاظ فرمائے: انصار میرے جسم و جان ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ بہت ہو جائیں گے اور انصار کم رہ جائیں گے، اس لیے ان کے نیکو کاروں کی پذیرائی کیا کرنا اور خطا کاروں سے درگزر کیا کرنا۔ یہ حدیث انصار کی فضیلت کو نہایت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں صرف تعریف نہیں، بلکہ امت کے لیے عملی ہدایت بھی ہے۔ جو نیکی کریں، اسے قبول کرو؛ جو غلطی کرے، اس کے ساتھ درگزر کا معاملہ کرو۔ انصار سے محبت کا مطلب صرف ان کا نام عزت سے لینا نہیں، بلکہ ان کے بارے میں نرمی، قدر اور اچھا گمان رکھنا بھی ہے۔ حدیث کا انداز بہت سادہ ہے مگر پیغام بہت مضبوط ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انصار کے لیے آپ صلى الله عليه وسلم نے بہت قریبی الفاظ استعمال فرمائے۔
  • ان کے نیک لوگوں کی پذیرائی کا حکم دیا گیا۔
  • ان کے خطا کاروں سے درگزر کی نصیحت ہوئی۔
  • انصار کی محبت عملی احترام کا تقاضا کرتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں