صحیح بخاری حدیث ۳۸۷۰ - چاند کا معجزہ اور انشقاق القمر
چاند کا معجزہ: انشقاق القمر کی حدیث آسان اردو میں
صحیح بخاری : ۳۸۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۸۷۰
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " أَنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ عَلَى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بلا شک و شبہ چاند پھٹ گیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۸۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں پیش آنے والا چاند کا معجزہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں بلا شک و شبہ چاند پھٹ گیا تھا۔ حدیث کے الفاظ بہت مختصر ہیں، مگر بات صاف ہے: یہ واقعہ نبی صلى الله عليه وسلم کے دور میں ہوا۔ اسی لیے اس حدیث کو انشقاق القمر کی حدیث، چاند پھٹنے کی حدیث، اور نبی صلى الله عليه وسلم کے معجزات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں ہمیں اپنی طرف سے کوئی اضافی تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ روایت میں صرف اتنا بیان ہوا ہے کہ چاند پھٹ گیا تھا۔ ایک مسلمان کے لیے اس حدیث کا سبق یہ ہے کہ صحیح روایت میں آئی ہوئی بات کو ادب کے ساتھ قبول کیا جائے اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی شان میں بیان ہونے والی بات کو سنجیدگی سے سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ حدیث بتاتی ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں چاند پھٹنے کا واقعہ پیش آیا۔
- حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس واقعے کو صاف الفاظ میں بیان کیا۔
- حدیث میں جو بات آئی ہے، اسی حد تک بات کرنا علمی احتیاط ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے معجزات کا ذکر ایمان اور ادب کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔
