صحیح بخاری حدیث ۳۸۷۱ - چاند پھٹنے کی حدیث
چاند پھٹنے کی حدیث: انشقاق القمر کا مختصر بیان
صحیح بخاری : ۳۸۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۸۷۱
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
چاند پھٹ گیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۸۷۱ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس میں ایک اہم واقعہ صاف الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چاند پھٹ گیا تھا۔ اس روایت کا اصل موضوع چاند پھٹنے کی حدیث ہے، جسے عام طور پر انشقاق القمر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں متن میں واقعے کی تفصیل، وقت، مقام یا مزید حالات بیان نہیں کیے گئے، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا درست ہے جو حدیث میں آئی ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ روایت ایک صحابی کے بیان کو نقل کرتی ہے کہ چاند کے پھٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ اس طرح کی مختصر حدیث پڑھتے وقت بہتر ہے کہ ہم اصل الفاظ پر توجہ دیں، اضافی باتیں شامل نہ کریں، اور جو بات روایت میں موجود ہے اسی کو سمجھیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے اصل متن کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جتنا اس میں بیان ہوا ہے۔
- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیان میں چاند پھٹنے کا واقعہ مختصر الفاظ میں نقل ہوا ہے۔
- مختصر روایت میں بھی ایک اہم واقعہ بیان ہو سکتا ہے، اس لیے الفاظ پر دھیان ضروری ہے۔
- حدیث کی تشریح کرتے وقت غیر موجود تفصیل شامل کرنے سے بچنا چاہیے۔
