صحیح بخاری حدیث ۴۰۷۴ - چہرہ مبارک کا زخم
غزوہ احد میں چہرہ مبارک خون آلود ہونا اور سخت وعید
صحیح بخاری : ۴۰۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۷۴
حَدَّثَنِي مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عباس روایت:
اللہ تعالیٰ کا اس شخص پر انتہائی غضب نازل ہوا جسے اللہ کے نبی نے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی غضب اس قوم پر نازل ہوا جنہوں نے اللہ کے نبی کے چہرہ مبارک کو (غزوہ احد کے موقع پر) خون آلود کر دیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۷۴ کا خلاصہ
یہ روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے۔ اس میں دو باتیں بیان ہوئیں: اللہ تعالیٰ کا سخت غضب اس شخص پر ہوا جسے اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کے راستے میں قتل کیا، اور سخت غضب اس قوم پر ہوا جس نے اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کے چہرہ مبارک کو خون آلود کیا۔ حدیث کے الفاظ کم ہیں، مگر پیغام صاف ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی حرمت بہت بڑی ہے۔ غزوہ احد میں چہرہ مبارک زخمی ہونا، اللہ کا غضب، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی شان جیسے الفاظ اس روایت سے متعلق ہیں۔ اس تشریح میں کوئی اضافی واقعہ شامل نہیں کیا جا رہا، کیونکہ متن خود مختصر ہے۔ ہمیں صرف اتنا سمجھنا چاہیے کہ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کو تکلیف دینا معمولی بات نہیں، بلکہ حدیث میں اس پر نہایت سخت الفاظ آئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے چہرہ مبارک کو خون آلود کرنے پر سخت وعید بیان ہوئی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ سے اللہ کے راستے میں قتل ہونے والے شخص کا ذکر بھی سخت الفاظ میں آیا ہے۔
- حدیث نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی حرمت کو بہت نمایاں کرتی ہے۔
