صحیح بخاری حدیث ۴۰۷۵ - زخموں کا علاج
غزوہ احد میں نبی صلى الله عليه وسلم کے زخموں کا علاج کیسے ہوا؟
صحیح بخاری : ۴۰۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۷۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، وَهْوَ يُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مَنْ كَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ يَسْكُبُ الْمَاءَ وَبِمَا دُووِيَ- قَالَ- كَانَتْ فَاطِمَةُ- عَلَيْهَا السَّلاَمُ- بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُهُ وَعَلِيٌّ يَسْكُبُ الْمَاءَ بِالْمِجَنِّ، فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لاَ يَزِيدُ الدَّمَ إِلاَّ كَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ، فَأَحْرَقَتْهَا وَأَلْصَقَتْهَا فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَئِذٍ، وَجُرِحَ وَجْهُهُ، وَكُسِرَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ.
سہل بن سعد روایت:
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے (غزوہ احد کے موقع پر ہونے والے) زخموں کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ` اللہ کی قسم! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کو کس نے دھویا تھا اور کون ان پر پانی ڈال رہا تھا اور جس دوا سے آپ کا علاج کیا گیا۔انہوں نے بیان کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی خون کو دھو رہی تھیں۔ علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون اور زیادہ نکلا آ رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا اور پھر اسے زخم پر چپکا دیا جس سے خون کا آنا بند ہو گیا۔ اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہو گیا تھا اور خود سر مبارک پر ٹوٹ گئی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۷۵ کا خلاصہ
یہ حدیث غزوہ احد کے بعد نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زخموں کی دیکھ بھال کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے زخم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خون دھو رہی تھیں، اور علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون زیادہ بہہ رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ٹکڑا جلایا اور اسے زخم پر لگایا، پھر خون رک گیا۔ اسی دن دندان مبارک بھی شہید ہوئے، چہرہ مبارک زخمی ہوا، اور خود سر مبارک پر ٹوٹ گئی۔ اس حدیث کے لیے غزوہ احد میں نبی صلى الله عليه وسلم کے زخم، فاطمہ رضی اللہ عنہا علاج، علی رضی اللہ عنہ پانی، اور چہرہ مبارک زخمی جیسے الفاظ اہم ہیں۔ روایت سے بس اتنا واضح ہے کہ اہل بیت نے بہت محبت اور فکر کے ساتھ زخم کی دیکھ بھال کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کے زخم کو دھویا۔
- علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے۔
- جب خون زیادہ بہا تو چٹائی جلا کر زخم پر لگائی گئی اور خون رک گیا۔
