صحیح بخاری حدیث ۴۰۸۲ - اخلاص اور سادگی
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا کفن اور اللہ کی رضا کے لیے ہجرت
صحیح بخاری : ۴۰۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۸۲
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى أَوْ ذَهَبَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، كَانَ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ يَتْرُكْ إِلاَّ نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلاَهُ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الإِذْخِرَ». أَوْ قَالَ: «أَلْقُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإِذْخِرِ». وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا.
خباب روایت:
ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور ہمارا مقصد اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا تھا۔ ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر ثواب دیتا۔ ہم میں سے بعض لوگ تو وہ تھے جو اللہ سے جا ملے اور (دنیا میں) انہوں نے اپنا کوئی ثواب نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔ غزوہ احد میں انہوں نے شہادت پائی اور ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز انہوں نے نہیں چھوڑی۔ اس چادر سے (کفن دیتے وقت) جب ہم ان کا سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں چھپاتے تو سر کھل جاتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ” «غطوا بها رأسه، واجعلوا على رجليه الإذخر» چادر سے سر چھپا دو اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دو۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ” «ألقوا على رجليه من الإذخر» یعنی ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو۔“ (دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے) اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہیں ان کے اس عمل کا پھل (اسی دنیا میں) دے دیا گیا اور وہ اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۸۲ کا خلاصہ
یہ حدیث اخلاص، ہجرت، اور دنیا کی سادگی کا بہت گہرا مگر سادہ واقعہ بیان کرتی ہے۔ خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھا۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے تھے جو اللہ سے جا ملے اور دنیا میں اپنے عمل کا کوئی پھل نہ دیکھا۔ ان میں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ احد میں شہید ہوئے اور صرف ایک چادر چھوڑی۔ جب سر ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے، اور پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ سر چادر سے ڈھانپ دو اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دو۔ اس حدیث کے الفاظ مصعب بن عمیر کا کفن، ہجرت اللہ کی رضا کے لیے، غزوہ احد شہادت، اور اخلاص کی حدیث ہیں۔ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ کچھ لوگوں کی قربانی دنیاوی آسائش کے بغیر بھی اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ نے ہجرت اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی، جیسا کہ خباب رضی اللہ عنہ نے بتایا۔
- مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پاس کفن کے لیے صرف ایک چادر تھی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سر کو چادر سے ڈھانپنے اور پاؤں پر اذخر رکھنے کا حکم دیا۔
