صحیح بخاری حدیث ۴۱۰۳ - غزوہ خندق کی آیت اور سخت گھڑی
غزوہ خندق کی آیت: خوف، صبر اور اللہ کی مدد
صحیح بخاری : ۴۱۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۰۳
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ سورة الأحزاب آية 10 , قَالَتْ : " كَانَ ذَاكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ .
عائشہ روایت:
آیت) «إذا جاؤوكم من فوقكم ومن أسفل منكم وإذ زاغت الأبصار وبلغت القلوب الحناجر» ”جب مشرکین تمہارے بالائی علاقہ سے اور تمہارے نشیبی علاقہ سے تم پر چڑھ آئے تھے اور جب مارے ڈر کے آنکھیں چکا چوند ہو گئی تھیں اور دل حلق تک آ گئے تھے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ آیت غزوہ خندق کے متعلق نازل ہوئی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع غزوہ خندق کی آیت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ قرآن کی وہ آیت جس میں اوپر اور نیچے سے دشمن کے آنے، آنکھوں کے پھٹ جانے اور دلوں کے حلق تک پہنچ جانے کا ذکر ہے، غزوہ خندق کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ غزوہ احزاب کا وقت مسلمانوں کے لیے بہت سخت تھا۔ دشمن کئی طرف سے آئے تھے اور خوف کا ماحول تھا۔ حدیث صرف یہ بات بتاتی ہے کہ آیت کا تعلق اسی دن سے تھا، اس لیے ہمیں اس میں بیان شدہ کیفیت کو اسی واقعہ کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ غزوہ خندق حدیث، سورہ احزاب آیت، اور یوم الخندق جیسے الفاظ اسی اصل پیغام کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی بعض آیات خاص واقعات کے بارے میں نازل ہوئیں، جیسا کہ یہاں غزوہ خندق کا ذکر ہے۔
- غزوہ خندق میں مسلمانوں پر سخت خوف اور دباؤ کا وقت آیا۔
- حدیث سے آیت کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
