صحیح بخاری حدیث ۴۱۱۱ - صلوٰۃ وسطیٰ کی اہمیت
غزوہ خندق میں نماز عصر رہ جانے کا واقعہ
صحیح بخاری : ۴۱۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۱۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ عُبَيْدَةَ , عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عنه , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : " مَلَأَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ " .
علی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا کہ جس طرح ان کفار نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ (نماز عصر) نہیں پڑھنے دی اور سورج غروب ہو گیا ‘ اللہ تعالیٰ بھی ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں غزوہ خندق کے دن کا ایک تکلیف دہ واقعہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کفار نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ، یعنی نماز عصر، سے مشغول رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے بارے میں سخت دعا فرمائی۔ حدیث کا اصل موضوع نماز عصر کی اہمیت اور جنگی مصروفیت کی وجہ سے نماز کے وقت کا فوت ہونا ہے۔ یہاں ہمیں صرف وہی بات سمجھنی چاہیے جو متن میں ہے: دشمن کی مصروفیت نے مسلمانوں کو عصر سے روک دیا، اور نبی صلى الله عليه وسلم کو اس پر سخت رنج ہوا۔ صلوٰۃ وسطیٰ حدیث، نماز عصر کی فضیلت، اور غزوہ خندق میں نماز جیسے الفاظ اس حدیث کے قریب ترین سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز عصر کو اس حدیث میں صلوٰۃ وسطیٰ کہا گیا ہے۔
- غزوہ خندق میں دشمن کی وجہ سے نماز عصر وقت پر ادا نہ ہو سکی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کو نماز سے روکے جانے پر سخت رنج ہوا۔
