صحیح بخاری حدیث ۴۱۴۷ - بارش کو اللہ کی رحمت سمجھنا

بارش اللہ کی رحمت ہے: ستاروں کی تاثیر والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۴۷

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ , فَأَصَابَنَا مَطَرٌ ذَاتَ لَيْلَةٍ , فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ , ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , فَقَالَ : " قَالَ اللَّهُ : أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِي , فَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَبِرِزْقِ اللَّهِ وَبِفَضْلِ اللَّهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ , وَأَمَّا مَنْ قَالَ : مُطِرْنَا بِنَجْمِ كَذَا فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي " .

زید بن خالد روایت:

حدیبیہ کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ایک دن، رات کو بارش ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھانے کے بعد ہم سے خطاب کیا اور دریافت فرمایا کہ معلوم ہے تمہارے رب نے کیا کہا؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندوں نے اس حالت میں صبح کی کہ ان کا ایمان مجھ پر تھا اور کچھ نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ میرا انکار کئے ہوئے تھے۔ تو جس نے کہا کہ ہم پر یہ بارش اللہ کے رزق ‘ اللہ کی رحمت اور اللہ کے فضل سے ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستارے کا انکار کرنے والا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ بارش فلاں ستارے کی تاثیر سے ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان لانے والا اور میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں حدیبیہ کے موقع پر رات کو بارش ہوئی۔ صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد صحابہ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ پھر بتایا کہ جس نے کہا بارش اللہ کے رزق، رحمت اور فضل سے ہوئی، وہ اللہ پر ایمان رکھنے والا ہے اور ستارے کا انکار کرنے والا ہے۔ اور جس نے کہا کہ بارش فلاں ستارے کی وجہ سے ہوئی، وہ ستارے پر ایمان رکھنے والا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع توحید ہے۔ بارش، رزق اور نعمت کو اللہ کی طرف منسوب کرنا چاہیے۔ اسباب کو خالق کا درجہ دینا ایمان کے لیے خطرناک بات ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بارش کو اللہ کی رحمت اور فضل سمجھنا چاہیے۔
  • نعمت ملنے پر نسبت اللہ کی طرف کرنی چاہیے۔
  • ستاروں کو بارش کا مستقل مؤثر سمجھنا سخت غلط عقیدہ ہے۔
  • نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیدہ درست کرنے کی تعلیم دی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں