صحیح بخاری حدیث ۴۱۹۱ - فدیہ کی آیت اور احرام کی آسانی
فدیہ کی آیت: احرام میں بیماری یا سر کی تکلیف کا حکم
صحیح بخاری : ۴۱۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۹۱
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ , قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ , قَالَ : وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَّاقَطُ عَلَى وَجْهِي , فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ , قَالَ : وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196 .
کعب بن عجرہ روایت:
صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے۔ ادھر مشرکین ہمیں بیت اللہ تک جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میرے سر پر بال بڑے بڑے تھے جن سے جوئیں میرے چہرے پر گرنے لگیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ کیا یہ جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر یہ آیت نازل ہوئی «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ”پس اگر تم میں کوئی مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف دینے والی چیز ہو تو اسے (بال منڈوا لینے چاہئیں اور) تین دن کے روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دینا چاہیے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۱۹۱ کا خلاصہ
اس روایت میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تھے اور سب احرام باندھے ہوئے تھے، جبکہ مشرکین بیت اللہ تک جانے سے روک رہے تھے۔ کعب رضی اللہ عنہ کے سر پر بال زیادہ تھے، جوئیں چہرے پر گرنے لگیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم ان کے پاس سے گزرے اور پوچھا کہ کیا سر کی یہ جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر قرآن کی آیت نازل ہوئی کہ جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو فدیہ دے؛ روزہ، صدقہ یا قربانی میں سے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ عبادت کے اندر تکلیف کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کی حالت میں بیماری یا سر کی تکلیف کا حکم قرآن میں آیا ہے۔
- تکلیف چھپانے کے بجائے اسے نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے بیان کیا گیا۔
- فدیہ کے لیے روزہ، صدقہ یا قربانی کا ذکر اسی آیت میں ہے۔
