صحیح بخاری حدیث ۴۱۹۴ - بہادری کے بعد نرمی کا حکم
بہادری اور نرمی: ابن اکوعؓ کی حدیث کا عملی سبق
صحیح بخاری : ۴۱۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۹۴
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ ، يَقُولُ : خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالْأُولَى ، وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَى بِذِي قَرَدَ ، قَالَ : فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، فَقَالَ : أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : مَنْ أَخَذَهَا ؟ قَالَ : غَطَفَانُ ، قَالَ : فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ : يَا صَبَاحَاهْ ، قَالَ : فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ , وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنَ الْمَاءِ ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي : أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعْ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ وكُنْتُ راميًا وَأَقُولُ وَأَرْتَجِزُ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً ، قَالَ : وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ , فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ ، فَابْعَثْ إِلَيْهِمُ السَّاعَةَ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ ، مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ " ، قَالَ : ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ .
سلمہ بن الاکوع روایت:
میں فجر کی اذان سے پہلے (مدینہ سے باہر غابہ کی طرف نکلا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ دینے والی اونٹنیاں ذات القرد میں چرا کرتی تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں مجھے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ملے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں پکڑ لی گئیں ہیں۔ میں پوچھا کہ کس نے پکڑا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ قبیلہ غطفان والوں نے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے تین مرتبہ بڑی زور زور سے پکارا ‘ یا صباحاہ! انہوں نے بیان کیا کہ اپنی آواز میں نے مدینہ کے دونوں کناروں تک پہنچا دی اور اس کے بعد میں سیدھا تیزی کے ساتھ دوڑتا ہوا آگے بڑھا اور آخر انہیں جا لیا۔اس وقت وہ جانوروں کو پانی پلانے کے لیے اترے تھے۔ میں نے ان پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔ میں تیر اندازی میں ماہر تھا اور یہ شعر کہتا جاتا تھا ”میں ابن الاکوع ہوں ‘ آج ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے“ میں یہی رجز پڑھتا رہا اور آخر اونٹنیاں ان سے چھڑا لیں بلکہ تیس چادریں ان کی میرے قبضے میں آ گئیں۔سلمہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر آ گئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تیر مار مار کر ان کو پانی نہیں دیا اور وہ ابھی پیاسے ہیں۔ آپ فوراً ان کے تعاقب کے لیے فوج بھیج دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن الاکوع! جب تو کسی پر قابو پا لے تو نرمی اختیار کر۔ سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ پھر ہم واپس آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی اونٹنی پر پیچھے بٹھا کر لائے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۹۴ کا خلاصہ
یہ حدیث سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی بہادری اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی تربیت دونوں کو دکھاتی ہے۔ فجر کی اذان سے پہلے انہیں خبر ملی کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی دودھ دینے والی اونٹنیاں غطفان والوں نے پکڑ لی ہیں۔ انہوں نے بلند آواز سے پکارا، پھر تیزی سے دوڑے، دشمن تک پہنچے، تیر برسائے، اونٹنیاں واپس لے آئیں اور کچھ چادریں بھی حاصل ہوئیں۔ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم صحابہ کے ساتھ پہنچے تو سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ پیاسے ہیں، ابھی تعاقب کے لیے لشکر بھیج دیجئے۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اے ابن اکوع! جب تم قابو پا لو تو نرمی اختیار کرو۔ یہ جملہ اس حدیث کا بڑا سبق ہے کہ طاقت کے بعد بھی حد اور نرمی باقی رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خطرے کی خبر ملے تو وقت پر آواز اٹھانا اور اقدام کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔
- سلمہؓ کی بہادری کے ساتھ نبی صلى الله عليه وسلم نے نرمی کا سبق بھی دیا۔
- غلبہ مل جانے کے بعد مزید سختی کے بجائے سنبھل کر فیصلہ کرنا چاہیے۔
