صحیح بخاری حدیث ۴۱۹۵ - ستو کھا کر کلی اور نماز
ستو کھانے کے بعد کلی: وضو اور نماز سے متعلق آسان حدیث
صحیح بخاری : ۴۱۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۹۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ : " خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ ، فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
سوید بن نعمان روایت:
´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور انہیں سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` غزوہ خیبر کے لیے وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے۔ (بیان کیا) جب ہم مقام صہبا میں پہنچے جو خیبر کے نشیب میں واقع ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی پھر آپ نے توشہ سفر منگوایا۔ ستو کے سوا اور کوئی چیز آپ کی خدمت میں نہیں لائی گئی۔ وہ ستو آپ کے حکم سے بھگویا گیا اور وہی آپ نے بھی کھایا اور ہم نے بھی کھایا۔اس کے بعد مغرب کی نماز کے لیے آپ کھڑے ہوئے (چونکہ وضو پہلے سے موجود تھا) اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صرف کلی کی اور ہم نے بھی ‘ پھر نماز پڑھی اور اس نماز کے لیے نئے سرے سے وضو نہیں کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۹۵ کا خلاصہ
یہ حدیث خیبر کے سفر کا ایک مختصر مگر مفید واقعہ بیان کرتی ہے۔ سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تھے۔ جب صہبا پہنچے، جو خیبر کے قریب ہے، تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عصر کی نماز پڑھی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے توشہ سفر منگوایا، مگر ستو کے سوا کچھ نہ آیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے حکم سے ستو بھگویا گیا، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بھی کھایا اور صحابہ نے بھی کھایا۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کا وقت ہوا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے کلی کی، صحابہ نے بھی کلی کی، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے نماز پڑھی اور اس نماز کے لیے نیا وضو نہیں کیا۔ یہ روایت کھانے کے بعد کلی اور پہلے وضو کے باقی ہونے کا سادہ عملی نمونہ دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ستو کھانے کے بعد کلی فرمائی اور صحابہ نے بھی ایسا کیا۔
- روایت میں مغرب کے لیے نئے وضو کا ذکر نہیں، بلکہ پہلے وضو پر نماز پڑھی گئی۔
- سفر میں جو سادہ کھانا موجود ہو، اسی پر گزارا کیا گیا۔
