صحیح بخاری حدیث ۴۲۰ - گھوڑوں کی دوڑ اور تیاری
گھوڑ دوڑ کی حدیث: تیار اور غیر تیار گھوڑوں کا فرق
صحیح بخاری : ۴۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ فِيمَنْ سَابَقَ بِهَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی جنھیں (جہاد کے لیے) تیار کیا گیا تھا مقام حفیاء سے دوڑ کرائی، اس دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع تھی اور جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کرائی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس گھوڑ دوڑ میں شرکت کی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع گھوڑ دوڑ اور تیاری ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی جنہیں تیار کیا گیا تھا۔ ان کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک تھی۔ جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے، ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک رکھی گئی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اس دوڑ میں شامل تھے۔ حدیث سے اتنا ہی واضح ہوتا ہے کہ مقابلے میں تیاری کا فرق دیکھا گیا اور تیار گھوڑوں اور غیر تیار گھوڑوں کے لیے الگ حد مقرر کی گئی۔ اس میں نظم، تربیت اور مناسب معیار کے مطابق مقابلہ رکھنے کی بات سمجھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مقابلے میں تیاری اور صلاحیت کا فرق ملحوظ رکھا گیا۔
- تیار گھوڑوں اور غیر تیار گھوڑوں کی دوڑ الگ مقرر ہوئی۔
- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس گھوڑ دوڑ میں شریک تھے۔
- منظم مقابلہ رکھنے کا طریقہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
