صحیح بخاری حدیث ۴۲۸۹ - کعبہ کے اندر نماز کا مقام

کعبہ کے اندر نماز کی حدیث: بلال رضی اللہ عنہ کی رہنمائی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۸۹

وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُرْدِفًا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَمَعَهُ بِلَالٌ ، وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ مِنَ الْحَجَبَةِ حَتَّى أَنَاخَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ بِمِفْتَاحِ الْبَيْتِ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَبِلَالٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، فَمَكَثَ فِيهِ نَهَارًا طَوِيلًا ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَاسْتَبَقَ النَّاسُ ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ ، فَوَجَدَ بِلَالًا ، وَرَاءَ الْبَابِ قَائِمًا ، فَسَأَلَهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَشَارَ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى مِنْ سَجْدَةٍ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر فتح مکہ کے دن مکہ کے بالائی علاقہ کی طرف سے شہر میں داخل ہوئے۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما آپ کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ اور کعبہ کے حاجب عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آخر اپنے اونٹ کو آپ نے مسجد (کے قریب باہر) بٹھایا اور بیت اللہ کی کنجی لانے کا حکم دیا پھر آپ بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ کے ساتھ اسامہ بن زید ‘ بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ آپ اندر کافی دیر تک ٹھہرے ‘ جب باہر تشریف لائے تو لوگ جلدی سے آگے بڑھے۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سب سے پہلے اندر جانے والوں میں تھے۔ انہوں نے بیت اللہ کے دروازے کے پیچھے بلال رضی اللہ عنہ کو کھڑے ہوئے دیکھا اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی تھی۔ انہوں نے وہ جگہ بتلائی جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔

صحیح بخاری حدیث ۴۲۸۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں فتح مکہ کے دن نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے مکہ میں داخل ہونے، بیت اللہ کی کنجی منگوانے، اور کعبہ کے اندر تشریف لے جانے کا ذکر ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم اندر کافی دیر تک ٹھہرے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم باہر تشریف لائے تو لوگ جلدی سے آگے بڑھے، اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے اندر جانے والوں میں تھے۔ انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کہاں نماز پڑھی تھی۔ بلال رضی اللہ عنہ نے جگہ بتا دی، مگر ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں یہ پوچھنا بھول گیا کہ کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ اس حدیث میں دینی بات معلوم کرنے کا سادہ اور خوبصورت انداز بھی ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو جاننے کی کوشش کرتے تھے۔
  • دینی بات معلوم کرنے کے لیے اہل علم یا عینی گواہ سے پوچھنا درست ہے۔
  • کعبہ کے اندر نماز کے مقام کے بارے میں بلال رضی اللہ عنہ نے رہنمائی کی۔
  • حدیث میں جو تعداد نہ پوچھی گئی، اسے اپنی طرف سے بیان نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں