صحیح مسلم حدیث ۱۳۲۹ - اللہ کے عذاب سے پناہ

اللہ کے عذاب سے پناہ: مختصر مگر گہری دعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۲۹

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پناہ مانگو اللہ کے ساتھ اللہ کے عذاب سے، پناہ مانگو اللہ کی قبر کے عذاب سے، پناہ مانگو اللہ کی دجال کے فتنہ سے، پناہ مانگو اللہ کی زندگی اور موت کے فتنہ سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۳۲۹ کا خلاصہ

اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں فرمایا کہ اللہ کے عذاب سے پناہ مانگو، قبر کے عذاب سے پناہ مانگو، مسیح دجال کے فتنے سے پناہ مانگو، اور زندگی و موت کے فتنے سے پناہ مانگو۔ حدیث کا انداز حکم اور نصیحت کا ہے۔ اس میں بندے کو یاد دلایا گیا ہے کہ وہ اپنی طاقت پر بھروسہ نہ کرے، بلکہ اللہ کی پناہ طلب کرے۔ عذاب اللہ، عذاب قبر، فتنہ دجال، اور فتنہ محیا و ممات اس حدیث کے اصل موضوعات ہیں۔ یہ دعا انسان کو دنیا اور آخرت دونوں کی فکر دیتی ہے، مگر کسی خوف پھیلانے والے انداز میں نہیں، بلکہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کے انداز میں۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ پناہ مانگنا بندگی کا حصہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے عذاب سے پناہ مانگنا بندے کی عاجزی ہے۔
  • قبر کے عذاب سے حفاظت کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
  • دجال کے فتنے اور زندگی و موت کے فتنے سے پناہ مانگی جائے۔
  • دعا میں دنیا اور آخرت دونوں کی حفاظت شامل ہونی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں