صحیح مسلم حدیث ۱۳۲۸ - عذاب قبر اور دجال سے پناہ
عذاب قبر، دوزخ اور فتنہ دجال سے پناہ کی جامع دعا
صحیح مسلم : ۱۳۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۲۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ النَّارِ ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» ”یا اللہ! پناہ مانگتا ہوں میں تیری قبر کے عذاب سے اور دوزخ کے عذاب سے اور زندگی اور موت سے فساد اور دجال کی برائی سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۳۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک جامع دعا نقل ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے عذاب قبر، عذاب نار، زندگی اور موت کے فتنے، اور مسیح دجال کے شر سے پناہ مانگی۔ دعا کے الفاظ صاف ہیں اور انسان کو چار بڑے خطرات یاد دلاتے ہیں۔ عذاب قبر انسان کو موت کے بعد کی جواب دہی کی طرف متوجہ کرتا ہے، عذاب نار آخرت کے انجام کی فکر دلاتا ہے، فتنہ محیا و ممات زندگی اور موت کے نازک وقتوں کی آزمائش کی یاد دلاتا ہے، اور دجال کا شر ایک بڑے فتنے سے پناہ کی دعا ہے۔ اس روایت میں لمبی شرح نہیں، بلکہ ایک ایسی دعا ہے جسے بندہ نماز اور دعا کے موقع پر یاد رکھ سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ سے عذاب قبر اور دوزخ کے عذاب سے پناہ مانگنی چاہیے۔
- زندگی اور موت کے فتنوں سے حفاظت اللہ ہی سے طلب کی جائے۔
- فتنہ دجال کے شر سے پناہ مانگنا نبوی دعا میں شامل ہے۔
- مختصر دعا بھی بڑے معنی رکھ سکتی ہے۔
