صحیح مسلم حدیث ۱۳۲۷ - تشہد کے الفاظ میں روایت کا فرق
تشہد کے بعد پناہ کی دعا: روایت کے لفظی فرق کو سمجھیں
صحیح مسلم : ۱۳۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۲۷
وحَدَّثَنِيهِ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ جَمِيعًا ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ : الآخِرِ .
اوزاعی روایت:
اوزاعی اس سند سے بیان کرتے کہ جب تم میں سے کوئی تشہد سے فارغ ہو اور اس میں آخری تشہد ذکر نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۲۷ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے مضمون سے جڑی ہوئی ہے، مگر یہاں ایک خاص لفظی فرق بتایا گیا ہے۔ اوزاعی اسی سند سے بیان کرتے ہیں کہ الفاظ یہ ہیں: جب تم میں سے کوئی تشہد سے فارغ ہو، اور اس میں آخری تشہد کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس طرح کی روایات ہمیں بتاتی ہیں کہ حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت راویوں نے جہاں لفظی فرق پایا، اسے امانت کے ساتھ بیان کیا۔ اصل مضمون پھر بھی تشہد کے بعد اللہ سے پناہ مانگنے سے متعلق ہے۔ یہاں عذاب جہنم، عذاب قبر، فتنہ محیا و ممات اور دجال کے شر والی دعا کا پس منظر سمجھ آتا ہے، مگر اس خاص روایت میں زور اس بات پر ہے کہ ایک روایت میں آخری تشہد کے بجائے صرف تشہد کا لفظ آیا ہے۔ یہ حدیث نقل حدیث کی احتیاط بھی دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ میں فرق ہو تو اسے امانت سے بیان کیا جاتا ہے۔
- اس روایت میں تشہد کے بعد پناہ مانگنے کا عمومی لفظ آیا ہے۔
- راویوں نے آخری تشہد کا لفظ نہ آنے کی وضاحت کی۔
- دینی بات نقل کرتے وقت الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔
