صحیح بخاری حدیث ۴۳۲۶ - نسب کی سچائی اور باپ کی نسبت
نسب کی سچائی: باپ کے علاوہ کسی اور کی نسبت کی ممانعت
صحیح بخاری : ۴۳۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۲۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَبَا بَكْرَةَ ، وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَا : سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " ، وَقَالَ هِشَامٌ : وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، أَوْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، وَأَبَا بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَاصِمٌ : قُلْتُ : لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ حَسْبُكَ بِهِمَا ، قَالَ : أَجَلْ ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ ، فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِنْ الطَّائِفِ .
ابوعثمان نہدی روایت:
میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تھا اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے جو طائف کے قلعے پر چند مسلمانوں کے ساتھ چڑھے تھے اور اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان دونوں صحابیوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔اور ہشام نے بیان کیا اور انہیں معمر نے خبر دی، انہیں عاصم نے، انہیں ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی نے، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عاصم نے بیان کیا کہ میں نے (ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ) سے کہا آپ سے یہ روایت ایسے دو اصحاب (سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما) نے بیان کی ہے کہ یقین کے لیے ان کے نام کافی ہیں۔انہوں نے کہا یقیناً ان میں سے ایک (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا اور دوسرے (ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) وہ ہیں جو تیسویں آدمی تھے ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نسب کی سچائی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے، اس پر جنت حرام ہے۔ یہاں بات صرف نام یا تعارف کی نہیں، بلکہ جان بوجھ کر اصل باپ سے نسبت ہٹا کر کسی اور کی طرف نسبت کرنے کی ہے۔ روایت میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ جیسے معتبر صحابہ کا ذکر بھی ہے، جس سے حدیث کی اہمیت صاف سمجھ آتی ہے۔ عام فہم الفاظ میں یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ خاندان، نسب اور شناخت کے معاملے میں جھوٹ بہت خطرناک ہے۔ مسلمان کو اپنی اصل نسبت میں سچائی اختیار کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نسب کے معاملے میں جان بوجھ کر جھوٹ بولنا سخت منع ہے۔
- انسان کو اپنے اصل باپ اور خاندان کی نسبت میں سچائی اختیار کرنی چاہیے۔
- بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حکم کو واضح طور پر نقل کیا۔
