صحیح بخاری حدیث ۴۳۲۷ - نسب کی حفاظت اور سچائی
باپ کی نسبت بدلنے پر سخت وعید: نسب کی حفاظت
صحیح بخاری : ۴۳۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۲۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَبَا بَكْرَةَ ، وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَا : سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " ، وَقَالَ هِشَامٌ : وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، أَوْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، وَأَبَا بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَاصِمٌ : قُلْتُ : لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ حَسْبُكَ بِهِمَا ، قَالَ : أَجَلْ ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ ، فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِنْ الطَّائِفِ .
ابوعثمان نہدی روایت:
میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تھا اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے جو طائف کے قلعے پر چند مسلمانوں کے ساتھ چڑھے تھے اور اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان دونوں صحابیوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔اور ہشام نے بیان کیا اور انہیں معمر نے خبر دی، انہیں عاصم نے، انہیں ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی نے، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عاصم نے بیان کیا کہ میں نے (ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ) سے کہا آپ سے یہ روایت ایسے دو اصحاب (سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما) نے بیان کی ہے کہ یقین کے لیے ان کے نام کافی ہیں۔انہوں نے کہا یقیناً ان میں سے ایک (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا اور دوسرے (ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) وہ ہیں جو تیسویں آدمی تھے ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی اصل بات نسب کی حفاظت ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، اس پر جنت حرام ہے۔ یہ الفاظ بہت سنجیدہ ہیں، اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے اصل نکتہ یہی رہتا ہے کہ انسان اپنی شناخت میں دھوکا نہ دے۔ روایت میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر آتا ہے، دونوں صحابہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے یہ بات سنی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نسب کا معاملہ معمولی نہیں۔ معاشرے میں اعتماد اسی وقت رہتا ہے جب لوگ اپنی اصل نسبت، باپ اور خاندان کے بارے میں سچ بولیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنی اصل نسبت کو جانتے ہوئے بدلنا جائز نہیں۔
- نسب کی سچائی معاشرتی اعتماد کا اہم حصہ ہے۔
- حدیث میں بیان کی گئی وعید کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔
