صحیح بخاری حدیث ۴۳۳ - عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت
عذاب یافتہ مقامات کی حدیث: روتے ہوئے گزرو یا نہ گزرو
صحیح بخاری : ۴۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۳
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ ، لَا يُصِيبُكُمْ مَا أَصَابَهُمْ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان عذاب والوں کے آثار سے اگر تمہارا گزر ہو تو روتے ہوئے گزرو، اگر تم اس موقع پر رو نہ سکو تو ان سے گزرو ہی نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی ان کا سا عذاب آ جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۳ کا خلاصہ
یہ حدیث عذاب یافتہ مقامات سے گزرنے کے آداب بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ان عذاب والوں کے آثار سے اگر گزر ہو تو روتے ہوئے گزرو۔ اگر رونا نہ آ سکے تو وہاں سے گزرو ہی نہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے وجہ بھی بیان فرمائی کہ ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائے جو ان پر آیا تھا۔ اس حدیث میں سیر و تفریح یا تماشے کا انداز نہیں، بلکہ ڈر، عاجزی اور عبرت کا انداز بتایا گیا ہے۔ متن میں جس حد تک بات آئی ہے، اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے مقامات کو ہلکے انداز میں نہیں لینا چاہیے۔ یہ روایت عذاب والی جگہ، قوم ثمود کے آثار، اور عبرت کی حدیث جیسے موضوعات میں تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عذاب یافتہ مقامات سے گزرتے وقت دل میں خوف اور عبرت ہونی چاہیے۔
- اگر رونا نہ ہو تو وہاں داخل ہونے سے منع فرمایا گیا۔
- ایسے آثار کو تماشے کی طرح دیکھنا حدیث کے انداز کے خلاف ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے پچھلی قوموں کے انجام سے ڈرنے کی تعلیم دی۔
