صحیح بخاری حدیث ۴۳۵۴ - حج احرام اور قربانی کا جانور

ہدی کے ساتھ احرام: حج کو عمرہ بنانے کا حکم کب ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۵۴

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ ، أَنَّهُ ذَكَرَ لِابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ ، فَقَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً " ، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ الْيَمَنِ حَاجًّا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ، فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ ؟ " قَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَأَمْسِكْ ، فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا " .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج ہی کا احرام باندھا تھا۔ پھر ہم جب مکہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا احرام کر لے (اور طواف اور سعی کر کے احرام کھول دے) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا۔پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے لوٹ کر حج کا احرام باندھ کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے کس طرح احرام باندھا ہے؟ ہمارے ساتھ تمہاری زوجہ فاطمہ بھی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسی طرح کا احرام باندھا ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے احرام پر قائم رہو، کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۳۵۴ کا خلاصہ

یہ حدیث حج کے احرام اور ہدی کے مسئلے کو بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ اور حج کا احرام باندھا اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ حج کے احرام میں تھے۔ جب مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں، وہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ بنا لے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے اس واقعے میں ہدی نہ ہونا ایک اہم شرط کے طور پر آیا ہے۔ علی رضی اللہ عنہ یمن سے حج کا احرام باندھے ہوئے آئے۔ جب انہوں نے بتایا کہ انہوں نے وہی احرام باندھا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ احرام پر قائم رہو، کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج کے احرام میں ہدی کی موجودگی حکم پر اثر ڈالتی ہے۔
  • ہدی نہ رکھنے والوں کے لیے حدیث میں عمرہ بنا کر حلال ہونے کا حکم آیا ہے۔
  • ہدی رکھنے والے احرام پر قائم رہے، جیسا کہ اس واقعے میں بیان ہوا۔
  • حج کے اعمال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو سامنے رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں