صحیح بخاری حدیث ۴۳۶۳ - حج میں شرک اور ننگے طواف کی ممانعت

ننگے طواف کی ممانعت: حج کو شرک سے پاک کرنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۶۳

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ : " لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حجۃ الوداع سے پہلے جس حج کا امیر بنا کر بھیجا تھا، اس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے کئی آدمیوں کے ساتھ قربانی کے دن (منیٰ) میں اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک (بیت اللہ) کا حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۳۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع حج میں توحید اور بیت اللہ کے طواف کا ادب ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے پہلے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حج کا امیر بنا کر بھیجا۔ اس حج میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو چند آدمیوں کے ساتھ قربانی کے دن منیٰ میں اعلان کے لیے بھیجا۔ اعلان یہ تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج کرنے نہ آئے اور کوئی شخص ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ یہ حدیث حج کی پاکیزگی، طواف کعبہ کے احترام اور شرک سے دوری کا صاف پیغام دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج کو شرک سے پاک رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
  • بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرنے سے منع کیا گیا۔
  • قربانی کے دن منیٰ میں عام اعلان کیا گیا تاکہ بات سب تک پہنچے۔
  • ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس حج میں امیر بنایا گیا تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں