صحیح بخاری حدیث ۱۶۲۲ - حج میں شرک اور عریاں طواف کی ممانعت

حج بیت اللہ میں توحید اور عریاں طواف کی ممانعت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۲۲

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قال يُونُسُ : قال ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ أَلَا لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ ، وَلَا يَطُوفُ بالبيت عُرْيَانٌ " .

ابوہریرہ روایت:

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حج کے موقع پر جس کا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنایا تھا۔ انہیں دسویں تاریخ کو ایک مجمع کے سامنے یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج بیت اللہ نہیں کر سکتا اور نہ کوئی شخص ننگا رہ کر طواف کر سکتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں حج بیت اللہ کے ایک اہم اعلان کا ذکر ہے۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حج کے موقع پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو دسویں تاریخ کو لوگوں میں اعلان کرنے کے لیے بھیجا گیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی شخص ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام توحید، طہارت اور طواف کے ادب سے متعلق ہے۔ حج صرف ایک جسمانی سفر نہیں بلکہ اللہ کے گھر کی طرف بندگی کا سفر ہے۔ اس لیے اس میں شرک کی کوئی جگہ نہیں، اور نہ ہی ایسا طواف درست سمجھا جا سکتا ہے جو حیا اور لباس کے بنیادی ادب کے خلاف ہو۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ بیت اللہ کی حاضری میں عقیدہ بھی پاک ہو اور ظاہر بھی باوقار ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج بیت اللہ توحید کے ساتھ ادا کیا جانے والا عمل ہے۔
  • بیت اللہ کا طواف لباس اور حیا کے ادب کے ساتھ ہونا چاہیے۔
  • دینی احکام لوگوں تک صاف الفاظ میں پہنچانا ایک اہم ذمہ داری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں