صحیح بخاری حدیث ۱۶۲۱ - طواف میں غلط طریقہ چھوڑنے کی ہدایت
طواف کعبہ کا صحیح طریقہ: رسی کے ساتھ طواف کی ممانعت
صحیح بخاری : ۱۶۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۲۱
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِزِمَامٍ أَوْ غَيْرِهِ فَقَطَعَهُ " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص کعبہ کا طواف رسی یا کسی اور چیز کے ذریعہ کر رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع طواف کعبہ کا ادب اور درست طریقہ ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو کعبہ کا طواف رسی یا اسی جیسی کسی چیز کے ذریعے کر رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عبادت میں ایسے انداز اختیار نہیں کرنے چاہییں جو غیر مناسب ہوں یا طواف کی سادگی اور وقار کے خلاف ہوں۔ طواف بیت اللہ ایک پاکیزہ عمل ہے، اس لیے اسے سہولت، سنجیدگی اور سنت کے قریب رہ کر کرنا چاہیے۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ حاجی یا عمرہ کرنے والا شخص اپنے عمل میں خود ساختہ طریقے شامل نہ کرے، بلکہ جو طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اسی کو اختیار کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طواف کعبہ میں غیر مناسب اور بناوٹی طریقوں سے بچنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کے عمل میں غلط انداز کو فوراً درست فرمایا۔
- حج اور عمرہ کے اعمال میں سنت کے قریب رہنا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔
