صحیح بخاری حدیث ۴۳۷۶ - جاہلیت کی پتھر پرستی اور رجب کا رواج
جاہلیت کی پتھر پرستی: اسلام سے پہلے کے غلط رواج
صحیح بخاری : ۴۳۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۷۶
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَهْدِيَّ بْنَ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، يَقُولُ : " كُنَّا نَعْبُدُ الْحَجَرَ ، فَإِذَا وَجَدْنَا حَجَرًا هُوَ أَخْيَرُ مِنْهُ أَلْقَيْنَاهُ وَأَخَذْنَا الْآخَرَ ، فَإِذَا لَمْ نَجِدْ حَجَرًا جَمَعْنَا جُثْوَةً مِنْ تُرَابٍ ، ثُمَّ جِئْنَا بِالشَّاةِ فَحَلَبْنَاهُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ طُفْنَا بِهِ ، فَإِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَجَبٍ ، قُلْنَا : مُنَصِّلُ الْأَسِنَّةِ ، فَلَا نَدَعُ رُمْحًا فِيهِ حَدِيدَةٌ وَلَا سَهْمًا فِيهِ حَدِيدَةٌ إِلَّا نَزَعْنَاهُ وَأَلْقَيْنَاهُ شَهْرَ رَجَبٍ .
ابورجاء عطاردی روایت:
ہم پہلے پتھر کی پوجا کرتے تھے اور اگر کوئی پتھر ہمیں اس سے اچھا مل جاتا تو اسے پھینک دیتے اور اس دوسرے کی پوجا شروع کر دیتے۔ اگر ہمیں پتھر نہ ملتا تو مٹی کا ایک ٹیلہ بنا لیتے اور بکری لا کر اس پر دوہتے اور اس کے گرد طواف کرتے۔ جب رجب کا مہینہ آ جاتا تو ہم کہتے کہ یہ مہینہ نیزوں کو دور رکھنے کا ہے۔ چنانچہ ہمارے پاس لوہے سے بنے ہوئے جتنے بھی نیزے یا تیر ہوتے ہم رجب کے مہینے میں انہیں اپنے سے دور رکھتے اور انہیں کسی طرف پھینک دیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو رجاء عطاردی اپنی سابقہ حالت بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم پہلے پتھر کی پوجا کرتے تھے۔ اگر اس سے بہتر پتھر مل جاتا تو پہلے کو پھینک دیتے اور دوسرے کی پوجا شروع کر دیتے۔ اگر پتھر نہ ملتا تو مٹی کا ڈھیر بناتے، بکری لا کر اس پر دودھ دوہتے اور پھر اس کے گرد طواف کرتے۔ رجب کا مہینہ آتا تو اسے نیزوں کو الگ رکھنے کا مہینہ کہتے، اس لیے لوہے والے نیزے اور تیر الگ کر دیتے۔ حدیث میں اسلام سے پہلے کی عبادتی غلطی اور بے بنیاد رسم صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ شرک اور خود بنائی ہوئی عبادتیں انسان کو سچائی سے دور رکھتی ہیں۔ روایت صرف ان اعمال کا ذکر کرتی ہے، اس لیے اسی حد تک بات کی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پتھر یا مٹی کے ڈھیر کی عبادت جاہلیت کا عمل تھا۔
- لوگ اپنی پسند سے معبود بدل لیتے تھے، جو شرک کی کمزوری دکھاتا ہے۔
- رجب میں ہتھیار الگ رکھنے کا ایک سابقہ رواج بیان ہوا ہے۔
- اسلام سے پہلے کے غلط عقائد کو پہچاننا توحید کی قدر سمجھاتا ہے۔
