صحیح بخاری حدیث ۴۳۷۷ - مسیلمہ کی طرف بھاگنے کا ذکر
مسیلمہ کذاب کی طرف جانا: ابو رجاء کی مختصر روایت
صحیح بخاری : ۴۳۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۷۷
وَسَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ ، يَقُولُ : كُنْتُ يَوْمَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا أَرْعَى الْإِبِلَ عَلَى أَهْلِي ، فَلَمَّا سَمِعْنَا بِخُرُوجِهِ فَرَرْنَا إِلَى النَّارِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ " .
ابورجاء روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو میں ابھی کم عمر تھا اور اپنے گھر کے اونٹ چرایا کرتا تھا پھر جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح (مکہ کی خبر سنی) تو ہم آپ کو چھوڑ کر دوزخ میں چلے گئے، یعنی مسیلمہ کذاب کے تابعدار بن گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو رجاء اپنی کم عمری اور بعد کے ایک غلط رخ کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو میں کم عمر تھا اور اپنے گھر والوں کے اونٹ چرایا کرتا تھا۔ پھر جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور یا فتح کی خبر سنی تو ہم آگ کی طرف بھاگ گئے، یعنی مسیلمہ کذاب کے تابع ہو گئے۔ یہ جملہ بہت سخت ہے، مگر روایت کے الفاظ یہی بتاتے ہیں کہ وہ اس راستے کو ہلاکت کا راستہ سمجھ کر بیان کر رہے ہیں۔ اس حدیث میں اصل سبق یہ ہے کہ حق کے مقابل جھوٹے مدعی کے پیچھے جانا انسان کے لیے خطرناک راستہ ہے۔ حدیث مختصر ہے، اس لیے اس سے زائد تفصیل شامل نہیں کی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسیلمہ کذاب کی پیروی کو ابو رجاء نے آگ کی طرف بھاگنا کہا۔
- کم عمری یا ماحول انسان کو غلط راستے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
- حق کی خبر ملنے کے بعد جھوٹے دعوے دار کی طرف جانا نقصان دہ ہے۔
- اپنی سابقہ غلطی کو پہچاننا توبہ اور اصلاح کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔
