صحیح بخاری حدیث ۴۳۹۷ - طواف اور سعی کے بعد حلال ہونا
طواف اور سعی کی حدیث: عمرہ کے بعد حلال ہونے کا حکم
صحیح بخاری : ۴۳۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۹۷
حَدَّثَنِي بَيَانٌ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَارِقًا ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ ، فَقَالَ : " أَحَجَجْتَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " كَيْفَ أَهْلَلْتَ ؟ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ حِلَّ " ، فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی بطحاء (سنگریزی زمین) میں قیام کئے ہوئے تھے۔ آپ نے پوچھا تم نے حج کا احرام باندھ لیا؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ دریافت فرمایا، احرام کس طرح باندھا ہے؟ عرض کیا (اس طرح) کہ میں بھی اسی طرح احرام باندھتا ہوں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے (عمرہ کرنے کے لیے) بیت اللہ کا طواف کر، پھر صفا اور مروہ کی سعی کر، پھر حلال ہو جا۔ چنانچہ میں بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کر کے قبیلہ قیس کی ایک عورت کے گھر آیا اور انہوں نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع طواف، سعی اور احرام کھولنا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وادی بطحاء میں حاضر ہوئے۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے حج کا احرام باندھا؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر پوچھا کہ کس طرح احرام باندھا؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اسی طرح احرام باندھا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ پہلے بیت اللہ کا طواف کرو، پھر صفا اور مروہ کی سعی کرو، پھر حلال ہو جاؤ۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ اس حدیث میں حجۃ الوداع کے موقع پر احرام، طواف بیت اللہ، صفا مروہ کی سعی اور حلال ہونے کی عملی ترتیب ملتی ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ عبادت کے طریقے میں اپنی رائے نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی اصل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج اور عمرہ کے کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ترتیب سے کرنے چاہییں۔
- طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد حلال ہونے کا حکم اس واقعے میں بیان ہوا۔
- عبادت کے مسئلے میں سوال کرنا اور رہنمائی لینا درست طریقہ ہے۔
