صحیح بخاری حدیث ۴۳۹۸ - ہدی والے کا احرام
ہدی والے کا احرام: قربانی تک حلال نہ ہونے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۳۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۹۸
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ " ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ : فَمَا يَمْنَعُكَ ؟ فَقَالَ : " لَبَّدْتُ رَأْسِي ، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي ، فَلَسْتُ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی بیویوں کو حکم دیا کہ (عمرہ کرنے کے بعد) حلال ہو جائیں (یعنی احرام کھول دیں) حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) پھر آپ کیوں نہیں حلال ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو اپنے بالوں کو جما لیا ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا دیا ہے، اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ہدی اور احرام ہے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے سال اپنی بیویوں کو حکم دیا کہ عمرہ کے بعد حلال ہو جائیں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ پھر آپ خود کیوں حلال نہیں ہوتے؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے بالوں کو جما لیا ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا دیا ہے، اس لیے جب تک قربانی نہ کر لوں، احرام نہیں کھول سکتا۔ اس حدیث میں ایک اہم فرق واضح ہوتا ہے: جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی، ان کے لیے حلال ہونے کا حکم تھا، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی تھی، اس لیے آپ قربانی تک احرام میں رہے۔ یہ حدیث حجۃ الوداع، ہدی، احرام اور قربانی کے مسئلے کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جس کے ساتھ ہدی ہو، اس کے احرام کا حکم الگ ہو سکتا ہے۔
- حج کے مسائل میں حالات کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل کی وجہ واضح فرمائی تاکہ مسئلہ سمجھ آ جائے۔
