صحیح بخاری حدیث ۴۳۹۹ - والد کی طرف سے حج
والد کی طرف سے حج کی حدیث: عاجز باپ کے لیے حج بدل
صحیح بخاری : ۴۳۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۹۹
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
ابن عباس روایت:
قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مسئلہ پوچھا، فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اللہ کا جو فریضہ اس کے بندوں پر ہے (یعنی حج) میرے والد پر بھی فرض ہو چکا ہے لیکن بڑھاپے کی وجہ سے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتے۔ تو کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! کر سکتی ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع والد کی طرف سے حج کرنا ہے۔ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اللہ کا فریضہ حج میرے والد پر فرض ہو چکا ہے، مگر وہ بہت بوڑھے ہیں اور سواری پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں۔ اس حدیث میں حج بدل کا مسئلہ ایک خاص صورت میں بیان ہوا ہے: والد پر حج فرض ہو چکا ہے، مگر بڑھاپے کی وجہ سے وہ سواری پر بیٹھنے کے قابل نہیں۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ دین میں حقیقی عذر کا لحاظ رکھا جاتا ہے، اور اولاد اپنے والدین کے دینی حق کی ادائیگی میں مدد کر سکتی ہے۔ یہاں سوال، حالت اور جواب تینوں واضح ہیں، اس لیے بات کو اسی حد میں رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اگر والد شدید بڑھاپے کی وجہ سے حج نہ کر سکیں تو اولاد ان کی طرف سے حج کر سکتی ہے۔
- دینی مسئلے میں اپنی خاص حالت بیان کر کے سوال کرنا چاہیے۔
- والدین کے حقوق میں دینی ذمہ داریوں کی فکر بھی شامل ہو سکتی ہے۔
