صحیح بخاری حدیث ۴۴۲۷ - غزوہ تبوک سے واپسی

غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی صلى الله عليه وسلم کا استقبال

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۲۷

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ نَتَلَقَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ مَقْدَمَهُ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ.

سائب بن یزید روایت:

مجھے یاد ہے، جب میں بچوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۴۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع غزوہ تبوک سے واپسی اور نبی صلى الله عليه وسلم کا استقبال ہے۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے، میں بچوں کے ساتھ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے اور استقبال ثنیۃ الوداع کی طرف کیا گیا۔ یہ روایت ہمیں ایک سادہ مگر محبت بھرا منظر دکھاتی ہے۔ بچے بھی اس موقع پر موجود تھے اور انہوں نے اس یاد کو زندگی بھر محفوظ رکھا۔ اس حدیث میں جنگ کی تفصیل نہیں، بلکہ واپسی کے وقت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے محبت، خوشی اور استقبال کا پہلو بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی واپسی پر صحابہ اور بچے خوشی سے استقبال کے لیے نکلتے تھے۔
  • دینی واقعات میں بچوں کی موجودگی ان کی تربیت کا حصہ بن سکتی ہے۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم نے مختصر واقعات بھی دیانت سے نقل کیے۔
  • غزوہ تبوک کے بعد مدینہ میں استقبال کا واقعہ محبت رسول صلى الله عليه وسلم کو ظاہر کرتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں