صحیح بخاری حدیث ۴۴۲۶ - نبی صلى الله عليه وسلم کا استقبال
نبی صلى الله عليه وسلم کا استقبال: بچوں کی محبت بھری یاد
صحیح بخاری : ۴۴۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۲۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، يَقُولُ : " أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الْغِلْمَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَقَالَ سُفْيَانُ : مَرَّةً مَعَ الصِّبْيَانِ .
سائب بن یزید روایت:
مجھے یاد ہے جب میں بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ سفیان نے ایک مرتبہ ( «مع الغلمان» کے بجائے) «مع الصبيان.» بیان کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع استقبال رسول صلى الله عليه وسلم اور بچوں کی شرکت ہے۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ اپنی بچپن کی ایک یاد بیان کرتے ہیں کہ وہ بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا استقبال کرنے گئے تھے۔ روایت مختصر ہے، مگر اس میں محبت، احترام اور خوشی کا صاف پہلو موجود ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف بڑوں کی جماعت نہیں تھے، بچوں کی یادوں میں بھی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی آمد، ملاقات اور استقبال محفوظ تھا۔ اس حدیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم سے محبت معاشرے کے ہر طبقے میں تھی، یہاں تک کہ بچے بھی آپ صلى الله عليه وسلم کے استقبال کے لیے نکلتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے محبت بچوں کے دلوں میں بھی موجود تھی۔
- اچھے دینی مناظر بچپن کی یادوں میں محفوظ رہ سکتے ہیں۔
- بچوں کو نیک ماحول اور دینی محبت کے مواقع سے جوڑنا مفید ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی یادوں کو امانت کی طرح بیان کرتے تھے۔
