صحیح بخاری حدیث ۴۴۲۵ - قیادت اور حکمرانی کی حدیث
قیادت کی حدیث: حکمرانی کے فیصلے میں نبوی رہنمائی
صحیح بخاری : ۴۴۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۲۵
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ الْجَمَلِ بَعْدَ مَا كِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلَ مَعَهُمْ ، قَالَ : لَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَهْلَ فَارِسَ قَدْ مَلَّكُوا عَلَيْهِمْ بِنْتَ كِسْرَى ، قَالَ : " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً " .
ابوبکرہ روایت:
جنگ جمل کے موقع پر وہ جملہ میرے کام آ گیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ میں ارادہ کر چکا تھا کہ اصحاب جمل، عائشہ رضی اللہ عنہا اور آپ کے لشکر کے ساتھ شریک ہو کر (علی رضی اللہ عنہ کی) فوج سے لڑوں۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اہل فارس نے کسریٰ کی لڑکی کو وارث تخت و تاج بنایا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنا حکمران کسی عورت کو بنایا ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع قیادت اور حکمرانی ہے۔ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے موقع پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ایک بات ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی۔ وہ ایک لشکر کے ساتھ مل کر لڑنے کا ارادہ کر چکے تھے، مگر انہیں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا وہ فرمان یاد آیا جو اہل فارس کے بارے میں تھا۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم کو خبر ملی کہ انہوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم فلاح نہیں پاتی جس نے اپنا معاملہ عورت کے سپرد کیا۔ اس حدیث میں اصل زور اجتماعی فیصلے، حکمرانی اور دینی رہنمائی کو یاد رکھنے پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بڑے اجتماعی فیصلوں میں حدیث نبوی کو رہنما بنانا چاہیے۔
- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے ایک سنی ہوئی بات کو عملی موقع پر یاد رکھا۔
- حکمرانی اور قیادت کا معاملہ معمولی نہیں بلکہ امت کے انجام سے جڑا ہوتا ہے۔
- فتنے کے وقت جلد بازی کے بجائے دینی بات پر غور کرنا فائدہ دیتا ہے۔
