صحیح بخاری حدیث ۴۴۵ - نماز کے بعد مصلے پر بیٹھنے کی فضیلت

نماز کے بعد مصلے پر بیٹھنا اور فرشتوں کی دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ ، مَا لَمْ يُحْدِثْ تَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تم اپنے مصلے پر جہاں تم نے نماز پڑھی تھی، بیٹھے رہو اور ریاح خارج نہ کرو تو ملائکہ تم پر برابر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں «اللهم اغفر له اللهم ارحمه» ” اے اللہ! اس کی مغفرت کیجیئے، اے اللہ! اس پر رحم کیجیئے۔“

صحیح بخاری حدیث ۴۴۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں نماز کے بعد مصلے پر بیٹھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب تک آدمی اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، اور اس سے وضو توڑنے والی بات نہ ہو، فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ اس حدیث میں مصلے پر بیٹھنا، پاکی برقرار رکھنا، اور نماز کے بعد جلدی میں نہ اٹھنا ایک خوبصورت عمل کے طور پر آیا ہے۔ یہ عمل لمبا ہونا ضروری نہیں، مگر آدمی نماز کے بعد کچھ دیر سکون سے بیٹھ کر اللہ کی رحمت کا امیدوار رہ سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے بعد مصلے پر بیٹھنا باعث خیر ہے۔
  • پاکی باقی رہے تو فرشتے دعا کرتے ہیں۔
  • مغفرت اور رحمت کی دعا حدیث میں صاف آئی ہے۔
  • نماز کے بعد سکون سے بیٹھنا اچھا عمل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں